Jo Utar ke جو اتر کے زینہ شام سے
6 07 2009Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری
Categories : میری پسند
Khawahish
12 06 2009
ھمیں چاھیے تھا ملنا
کسی عہد مہرباں میں
کسی خواب کے یقین میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور ہی زمیں میں
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری، Urdu Poetry, اردو غزل
Categories : محبت
Muhabt ab nahi ho gee
12 06 2009
محبت اب نہيں ھو گی
یہ کچھ دن بعد میں ھو گی
گزر جائیں گئے جب یہ دن
یہ ” ان ” کی یاد میں ھو گی
منیر نیازی
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو غزل
Categories : میری پسند, محبت
Yeh jo Sham
11 06 2009Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری, اردو شاعری، Urdu Poetry
Categories : Ghazals, میری پسند, محبت
Kaho Ik Din
17 05 2009
کہو اک دن
Comments : Leave a Comment »
Tags: songs
Categories : My favorites Songs, میری پسند
موتیا ۔ نرگس کہ گلاب بھیجوں
10 04 2009
موتیا، نرگس کہ گلاب بھیجوں
جو تیرے در سے نامراد لوٹ آئے
وہ شکستہ دل کے خواب بھیجوں
تیرے انتظار میں جاگتے ستارے
کہ ڈوبتا ھوا اپنے ساتھ
شب تنہائی میں یہ مہتاب بھیجوں
لا حاصل سے اس سفر میں
اپنے چہرے پہ اٹی دھول
کہ تیری رفاقتوں کا حساب بھیجوں
تیری پلکوں کی پیاس بجھے گر
میرے آنسوں کی بارش سے ، راسخ
تو سکھوں کے اور بھی سراب بھیجوں
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری, اردو شاعری، Urdu Poetry, اردو غزل, غزل
Categories : Ghazals, محبت
سمے کا بندھن۔ ممتاز مفتی۔ اک اقتباس
10 04 2009
چھوٹی چو دھرانی کو صرف ایک ھی سوچ لگی تھی، اندر سے ایک ھی آواز اٹھتی بول تیرا جیون کس
کام آیا؟ وہ سوچ سوچ کر ہار جاتی پر اس سوال کا جواب اسکے زھن میں نہ آتا۔ الجھے الجھے خیال آتے۔
مجھے چمن سے اکھیڑ کر بیل بنا کر ایک درخت کے گرد گھما دیا اور اب اس درخت کو اکھیڑ پھینکا۔
بیل مٹی میں مل گئی اب یہ کس کے گرد گھومے، بول میرا جیون کس کام آیا۔
دفتاٰ اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کے روبرو کھڑا ھے سر اٹھا سامنے گاؤں کا پٹواری کھڑا تھا
کیا ھے وہ بولی
میں ھوں پٹواری، چھوٹی چو دھرانی جی
جا کر بڑی چو دھرانی سے مل مجھ سے تیرا کیا کام
آپ ھی سے کام ھے وہ بولا
تو بول کیا کہتا ھے
گاؤں میں دو درویش آئے ھیں گاؤں والے چاھتے ھیں انہيں چند دن یہاں روکا جائے جو آپ اجازت
دیں تو آپ کے مہمان خانے میں ٹھہرا دیں۔
ٹھہرا دو۔ وہ بولی
نوکر چاکر بندوبست۔ سب ھو جائے گا وہ بولی
پٹواری سلام کر کے جانے لگا تو کیوں اس نے سر سری طور پر پوچھا کہاں سے آئے ھیں؟
پٹواری بولا اجمیر شریف سے آئے ھیں۔ خواجہ غریب نواز کے فقیر ھیں
اک دھماکہ ھوا۔ چھوٹی چو دھرانی کی بوٹیاں ھو ا میں اچھلیں۔
اگلی شام چھوٹی چو دھرانی نے جنت بی بی سے پوچھا
جنت یہ جو درویش ٹھہرئے ھیں یہاں ان کے پاس گاؤں والے آتے ھیں کیا؟
جنت بولی، چھوٹی چو دھرانی وھاں تو سارا دن لوگوں کا تانتا لگا رھتا ھے۔
بڑے پہنچے ھوئے ھیں جو منہ سے کہتے ھیں ھو جاتا ھے
تو تیار ھو جا جنت ھم بھی جائیں گے۔تو اور میں
چھوٹی چو دھرانی جی وہ مغرب کے بعد کسی سے نہیں ملتے
تو چل تو سہی۔ چو دھرانی نے خود کو چادر میں لپیٹتے ھوئے کہا، اور دیکھ وھاں مجھے چو دھرانی
کہہ کر نہ بلانا، خبردار۔
جب وہ مہمان خانے پہنچیں تو دروازہ بند تھا۔جنت نے دروازہ کھٹکھٹایا کون ھے اندر سے آواز آئی۔
جنت نے پھر دستک دی۔ سفید ریش بوڑھے خادم نے دروازہ کھولا، جنت زبردستی اندر داخل ھو گئی
پیچھے پیچھے چو دھرانی تھی، سفید ریش خادم گھبرا گیا بولا۔
سائیں بادشاہ مغرب کے بعد کسی سے نہیں ملتے وہ اس کمرے میں مشغول ھیں،
ھم سائیں بادشاہ سے ملنے نہیں آئے۔چھوٹی چو دھرانی نے جواب دیا
تو پھر سفید ریش گھبرا گیا
ایک سوال پوچھنا ھے ۔ چو دھرانی نے کہا
سائیں بابا اس سمے سوال کا جواب نہیں دیں گے
سائیں بابا نے سوال کا جواب نہيں دینا، انہوں نے پوچھنا ھے وہ بولی۔
کس سے پوچھنا ھے۔ خادم بولا
اس سے پوچھنا ھے جس کے وہ بالکے ھیں۔ یہ سن کر سفید ریش خادم سن کھڑا رہ گیا
ان سے پوچھو چھوٹی چو دھرانی نے کہا ایک عورت تیرے دوارے کھڑی پوچھ رھی ھے۔ ھے غریب
نواز بتا میرا جیون کس کام آیا؟
کمرے میں منوں بوجھل خاموشی طاری ھو گئی
چھوٹی چو دھرانی بولی
کہو وہ عورت پوچھتی ھے۔ تو نے بیٹھک کے گملے سے اک بوٹا اکھیڑا، اسے بیل بنا کر ایک درخت
کے گرد لپیٹ دیا کہ جا کر اس پر نثار ھوتی رہ۔ وہ رک گئی کمرے کی خاموشی اور گہری ھو گئی۔
اب تو نے وہ درخت کو اکھیڑ پھینکا، بیل مٹی میں رل گئی۔ وہ بیل پوچھتی ھے میرا جیون کس کام
آیا؟ یہ کہ کر وہ چپ ھو گئی۔
تیرا جیون کس کام آیا؟تیرا جیون کس کام آیا؟ سفید ریش خادم کے ھونٹ لرزنے لگے۔ تو پوچھتی ھے
تیرا جیون کس کام آیا؟ کمرے کی خاموشی اتنی بوجھل ھو گئی کہ سہاری نہیں جاتی تھی۔
میری طرف دیکھ سفید ریش خادم نے کہا۔ سنہری بائی میری طرف دیکھ مجھے نہیں پہچانتی؟
میں تیرا سارنگی نواز تھا ۔ میں کیا تھا میں کیا ھو گیا۔
چھوٹی چو دھرانی کے منہ سے اک چیخ نکلی۔
استاد جی آپ، وہ استاد جی کے چرن چھونے کے لیے اگے بڑھی۔
عین اسی وقت ملحقہ کمرے کا دروازہ کھلا ایک بھاری بھرکم نورانی چہرہ برآمد ھوا۔
سنہری بی بی مجھ سے پوچھ تیرا جیون کس کام آیا۔ چھوٹی چو دھرانی نے مڑ کر دیکھا
ٹھاکر، وہ چلائی
ٹھاکر بولا۔ اب ہمیں پتا چلا کہ سرکار نے ھمیں ادھر آنے کا حکم کیوں دیا تھا۔ اس نے سنہری بی بی
کے سامنے اپنا سر جھکا دیا بولا۔ بی بی ھمیں آشیر باد دے۔
سمے کا بندھن سے۔۔۔ ممتاز مفتی۔۔۔ اک اقتباس
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو ادب
Categories : میری پسند, محبت
اے دل میرے یقین رکھ
23 03 2009
اے دل میرے یقین رکھ
کہ
بہار ھجراں کے آتے آتے اس کا دل
اک درد تمھارے نام کا بھی سہے گا
چھلکیں گی جب اسکی پلکیں کسی شام
تو آنسوں کوئی تمھارے نام کا بھی بہے گا
بٹے گا مکان دل، اپنے مکینوں کے بیچ جب
کوئی اک کونا تمھارے نام کا بھی رھے گا
شہر دل بنے گا جب شہر خاموشاں ، راسخ
کسی گور پہ اک کتبہ تمھارے نام کا بھی سجے گا
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری, اردو شاعری، Urdu Poetry, اردو غزل, غزل
Categories : Ghazals, تمھارے نام, عشق
میں اک خیال گریزاں
1 03 2009
کل شب جو شخص تھا میرے روبرو
وھی میرے خوابوں کا عکس تھا ھو بہو
وھی وحشت وھی جنوں۔وھی خرد تھا وھی فکر
اندر بھی وھی تھا، اور وھی پھیلا تھا چہار سو
اسنے کیسے کیسے خواب دیکھے تھے
گئی رتوں میں کتنے عزاب دیکھے تھے
اس کے اداس موسموں کے گلاب
میرے دل کے اندر کھلتے تھے
اسکی روشن صبحوں، اداس شاموں کے رنگ
سبہی میرے آنگن میں اترتے تھے
اک عمر کی ریاضت یوں ھی
رائیگاں جائے گی،میں جانتا نہ تھا
اسے جستجو تھی نہ جانے کس کی راسخ
میں اک خیال گریزاں کہ ، جس کو وہ سوچتا نہ تھا
(راسخ)
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری, اردو شاعری، Urdu Poetry, اردو غزل, غزل
Categories : Ghazals, محبت
میری باتوں کی بارش میں بھیگتی اک لڑکی
3 02 2009
میری باتوں کی بارش میں بھیگتی اک لڑکی
کہیں دور بہت وہ رھتی ھے
دل میں کئی طرح کے سوال لیے
کئی طرح جواب لیے
کچھ کھو جانے کا احساس لیے
کچھ پانے کی آس لیے
کبھی گم سم ھو جا تی ھے
کہیں دور بہت کھو جاتی ھے
جب سب کچھ جل تھل ھو جاتا ھے
چپکے چپکے روتی ھے
میری باتوں کی بارش میں بھیگتی اک لڑکی
کہیں دور بہت وہ رھتی ھے
(راسخ)
Comments : Leave a Comment »
Tags: اردو شاعری, اردو شاعری، Urdu Poetry, اردو غزل, غزل
Categories : Ghazals, تمھارے نام
Recent Comments